ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺭﻭﻣﯽ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ...
" ﺍﯾﮏ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻃﻮﻃﺎ ﭘﺎﻝ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﯾﮏ ﺑﻠﯽ ﻃﻮﻃﮯ ﭘﺮ ﺟﮭﭙﭩﯽ ﺍﻭﺭ ﻃﻮﻃﺎ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻟﮯ ﮔﯽ . ﺻﺎﺣﺐ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮓ ﮔﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﻨﺎﺏ ﺁﭖ ﮐﯿﻮﮞ ﺭﻭﺗﮯ ﮨﻮ ﮨﻢ ﺁﭘﮑﻮ ﻃﻮﻃﺎ ﻻ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺻﺎﺣﺐ ﺑﻮﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﻃﻮﻃﮯ ﮐﯽ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺭﻭ ﺭﮬﺎ ﮨﻮﮞ۔ "
ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺟﻨﺎﺏ " ﻭﮦ ﮐﯿﻮﮞ ؟
ﮐﮩﻨﮯﻟﮕﮯ ": ﺩﺭﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻃﻮﻃﮯ ﮐﻮ ﮐﻠﻤﮧ ﺳﯿﮑﮭﺎ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ . ﻃﻮﻃﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺐ ﺑﻠﯽ ﻃﻮﻃﮯ ﭘﺮ ﺟﮭﭙﭩﯽ ﺗﻮ ﻃﻮﻃﺎ ﮐﻠﻤﮧ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭨﺎﺋﯿﮟ ﭨﺎﺋﯿﮟ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ".
" ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺏ ﯾﮧ ﻓﮑﺮﮐﮭﺎﮰ ﺟﺎﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﻠﻤﮧ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﺟﺐ ﻣﻮﺕ ﮐﺎﻓﺮﺷﺘﮧ ﻣﺠﮫ ﭘﺮﺟﮭﭙﭩﮯ ﮔﺎ . ﻧﺎﻣﻌﻠﻮﻡ ﻣﯿﺮﯼ ﺫﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﮐﻠﻤﮧ ﻧﮑﻠﮯ ﮔﺎ . ﯾﺎ ﻃﻮﻃﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭨﺎﺋﯿﮟ ﭨﺎﺋﯿﮟ ﻧﮑﻠﮯ ﮔﯽ۔؟
ﮐﻠﻤﮧ ﺗﻮ ﮨﻢ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﮐﮫ ﯾﺎ ﻏﻢ ﮨﻢ ﭘﺮ ﺟﮭﭙﭩﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﮐﻠﻤﮧ ﺑﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﻃﻮﻃﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭨﺎﺋﯿﮟ ﭨﺎﺋﯿﮟ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮓ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭨﺎﺋﯿﮟ ﭨﺎﺋﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﺮﯾﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﮔﺰﺍﺭﮦ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮨﻢ ﭨﺎﺋﯿﮟ ﭨﺎﺋﯿﮟ ﮐﺮﺑﮭﯽ ﮐﺲ ﮐﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻗﺎﺩﺭ ﻏﺎﻟﺐ ﺍﻭﺭ ﺣﮑﻤﺖ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ . ﺟﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﻣﺮﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﺤﺘﺎﺝ ﻧﺎ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﺤﺘﺎﺝ ﺟﻮ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮨﻮ ﺟﺎ ﺳﻮ ﻭﮦ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ .
ﺍﺱ ﺫﺍﺕ ﮐﯽ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ
ﺍﺳﮯ ﺳﮑﻮﻥ ﻗﻠﺐ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺗﻮ ﺍﺳﮑﮯ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺳﮑﻮﻥ ﭼﮭﯿﻦ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ . ﻭﮦ ﺳﮑﻮﻥ ﺩﮮ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﮭﯿﻦ ﻧﺎﺳﮑﮯ ﻭﮦ ﭼﮭﯿﻨﻨﮯ ﭘﺮ ﺁﮰ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﻮﻟﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻧﺠﮑﺸﻦ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺸﮧ ﺳﮑﻮﻥ ﺩﮮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ . ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺍﻟﮧ ﺣﻠﻖ ﺳﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺍﺗﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺱ ﮐﺮﯾﻢ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﻮﻻ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯﻟﯿﮯ ﻏﺬﺍ ﺑﻨﻮﮞ ﮐﮧ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﺑﻦ ﺟﺎﻭﮞ .
ﻭﮨﯽ ﺍﮐﯿﻼ ﺳﺐ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻭﮨﯽ ﻗﺎﺩﺭ ،ﻭﮨﯽ ﺭﺅﻑ، ﻭﮨﯽ ﺭﺣﯿﻢ، ﻭﮨﯽ ﺭﺣﻤﻦ، ﻭﮨﯽ ﮐﺮﯾﻢ، ﻭﮨﯽ ﺣﻠﯿﻢ ،ﻭﮨﯽ ﺣﮑﯿﻢ ،ﻭﮨﯽ ﺍﻟﻤﺎﻟﮏ ، ﻭﮨﯽ ﻗﺪﻭﺱ ،ﻭﮨﯽ ﺻﻤﺪ ﻭﮨﯽ ﺑﺼﯿﺮ، ﻭﮨﯽ ﻧﺼﯿﺮ،ﻭﮨﯽ ﺧﺒﯿﺮ، ﻭﮨﯽ ﺑﺎﺳﻂ، ﻭﮨﯽ ﺭﺍﺯﻕ، ﻭﮨﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﮨﮯ
Sunday, March 31, 2019
Saturday, March 30, 2019
Wednesday, March 27, 2019
یاجوج ماجوج
*یاجوج و ماجوج کون*
یہ یافث بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک فسادی گروہ ہے۔ اور ان لوگوں کی تعداد بہت ہی زیادہ ہے۔ یہ لوگ بلا کے جنگجو خونخوار اور بالکل ہی وحشی اور جنگلی ہیں جو بالکل جانوروں کی طرح رہتے ہیں ۔
بہار کےموسم میں یہ لوگ اپنے غاروں سے نکل کر تمام کھیتیاں اور سبزیاں کھا جاتے تھے اور خشک چیزوں کو لاد کر لے جاتے تھے۔ آدمیوں اور جنگلی جانوروں یہاں تک کہ سانپ، بچھو، گرگٹ اور ہر چھوٹے بڑے جانور کو کھا جاتے تھے۔
حضرت ذوالقرنین علیہ الرحمہ سے لوگوں نے فریاد کی کہ آپ ہمیں یاجوج وماجوج کے شر سے بچایئے اور ان لوگوں نے ان کے عوض کچھ مال دینے کی بھی پیش کش کی تو حضرت ذوالقرنین نے فرمایا کہ مجھے تمہارے مال کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے سب کچھ دیا ہے۔ بس تم لوگ جسمانی محنت سے میری مدد کرو،چنانچہ۔۔۔۔!
آپ نے دونوں پہاڑوں کے درمیان بنیاد کھدوائی۔ جب پانی نکل آیا تو اس پر پگھلائے تانبے کے گارے سے پتھر جمائے گئے اور لوہے کے تختے نیچے اوپر چن کر اُن کے درمیان میں لکڑی اور کوئلہ بھروادیا۔ اور اُس میں آگ لگوادی۔ اس طرح یہ دیوار پہاڑ کی بلندی تک اونچی کردی گئی اور دونوں پہاڑوں کے درمیان کوئی جگہ نہ چھوڑی گئی۔ پھر پگھلایا ہوا تانبا دیوار میں پلا دیا گیا جو سب مل کر بہت ہی مضبوط اور نہایت مستحکم دیوار بن گئی۔https://www.youtube.com/channel/UCwoPxG7OxVcMjuTjYJ7ZVOQ?view_as=subscriber
*( خزائن العرفان،ص۵۴۵۔۵۴۷،پ۱۶، الکہف: ۸۶تا ۹۸)*
حدیث شریف میں ہے کہ یاجوج وماجوج روزانہ اس دیوار کو توڑتے ہیں اور دن بھر جب محنت کرتے کرتے اس کو توڑنے کے قریب ہوجاتے ہیں تو ان میں سے کوئی کہتا ہے کہ اب چلو باقی کو کل توڑ ڈالیں گے۔ دوسرے دن جب وہ لوگ آتے ہیں تو خدا کے حکم سے وہ دیوار پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہوجاتی ہے۔ جب اس دیوار کے ٹوٹنے کا وقت آئے گا تو ان میں سے کوئی کہے گا کہ اب چلو۔ ان شاء اللہ تعالیٰ کل اس دیوار کو توڑ ڈالیں گے۔ ان لوگوں کے ان شاء اللہ تعالیٰ کہنے کی برکت اور اس کلمہ کا یہ فائدہ ہوگا کہ دوسرے دن دیوار ٹوٹ جائے گی۔
یہ قیامت قریب ہونے کا وقت ہوگا۔ دیوار ٹوٹنے کے بعد یاجوج وماجوج نکل پڑیں گے اور زمین میں ہر طرف فتنہ و فساد اور قتل و غارت کریں گے۔ چشموں اور تالابوں کا پانی پی ڈالیں گے اور جانوروں اور درختوں کو کھا ڈالیں گے۔ زمین پر ہر جگہوں میں پھیل جائیں گے۔ مگر مکہ مکرمہ و مدینہ طیبہ و بیت المقدس ان تینوں شہروں میں یہ داخل نہ ہو سکیں گے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا سے اُن لوگوں کی گردنوں میں کیڑے پیدا ہو جائیں گے اور یہ سب ہلاک ہوجائیں گے۔
*(عجائب القرآن مع غرائب القرآن ، ص164،165)*
یہ یافث بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک فسادی گروہ ہے۔ اور ان لوگوں کی تعداد بہت ہی زیادہ ہے۔ یہ لوگ بلا کے جنگجو خونخوار اور بالکل ہی وحشی اور جنگلی ہیں جو بالکل جانوروں کی طرح رہتے ہیں ۔
بہار کےموسم میں یہ لوگ اپنے غاروں سے نکل کر تمام کھیتیاں اور سبزیاں کھا جاتے تھے اور خشک چیزوں کو لاد کر لے جاتے تھے۔ آدمیوں اور جنگلی جانوروں یہاں تک کہ سانپ، بچھو، گرگٹ اور ہر چھوٹے بڑے جانور کو کھا جاتے تھے۔
حضرت ذوالقرنین علیہ الرحمہ سے لوگوں نے فریاد کی کہ آپ ہمیں یاجوج وماجوج کے شر سے بچایئے اور ان لوگوں نے ان کے عوض کچھ مال دینے کی بھی پیش کش کی تو حضرت ذوالقرنین نے فرمایا کہ مجھے تمہارے مال کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے سب کچھ دیا ہے۔ بس تم لوگ جسمانی محنت سے میری مدد کرو،چنانچہ۔۔۔۔!
آپ نے دونوں پہاڑوں کے درمیان بنیاد کھدوائی۔ جب پانی نکل آیا تو اس پر پگھلائے تانبے کے گارے سے پتھر جمائے گئے اور لوہے کے تختے نیچے اوپر چن کر اُن کے درمیان میں لکڑی اور کوئلہ بھروادیا۔ اور اُس میں آگ لگوادی۔ اس طرح یہ دیوار پہاڑ کی بلندی تک اونچی کردی گئی اور دونوں پہاڑوں کے درمیان کوئی جگہ نہ چھوڑی گئی۔ پھر پگھلایا ہوا تانبا دیوار میں پلا دیا گیا جو سب مل کر بہت ہی مضبوط اور نہایت مستحکم دیوار بن گئی۔https://www.youtube.com/channel/UCwoPxG7OxVcMjuTjYJ7ZVOQ?view_as=subscriber
*( خزائن العرفان،ص۵۴۵۔۵۴۷،پ۱۶، الکہف: ۸۶تا ۹۸)*
حدیث شریف میں ہے کہ یاجوج وماجوج روزانہ اس دیوار کو توڑتے ہیں اور دن بھر جب محنت کرتے کرتے اس کو توڑنے کے قریب ہوجاتے ہیں تو ان میں سے کوئی کہتا ہے کہ اب چلو باقی کو کل توڑ ڈالیں گے۔ دوسرے دن جب وہ لوگ آتے ہیں تو خدا کے حکم سے وہ دیوار پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہوجاتی ہے۔ جب اس دیوار کے ٹوٹنے کا وقت آئے گا تو ان میں سے کوئی کہے گا کہ اب چلو۔ ان شاء اللہ تعالیٰ کل اس دیوار کو توڑ ڈالیں گے۔ ان لوگوں کے ان شاء اللہ تعالیٰ کہنے کی برکت اور اس کلمہ کا یہ فائدہ ہوگا کہ دوسرے دن دیوار ٹوٹ جائے گی۔
یہ قیامت قریب ہونے کا وقت ہوگا۔ دیوار ٹوٹنے کے بعد یاجوج وماجوج نکل پڑیں گے اور زمین میں ہر طرف فتنہ و فساد اور قتل و غارت کریں گے۔ چشموں اور تالابوں کا پانی پی ڈالیں گے اور جانوروں اور درختوں کو کھا ڈالیں گے۔ زمین پر ہر جگہوں میں پھیل جائیں گے۔ مگر مکہ مکرمہ و مدینہ طیبہ و بیت المقدس ان تینوں شہروں میں یہ داخل نہ ہو سکیں گے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا سے اُن لوگوں کی گردنوں میں کیڑے پیدا ہو جائیں گے اور یہ سب ہلاک ہوجائیں گے۔
*(عجائب القرآن مع غرائب القرآن ، ص164،165)*
Tuesday, March 26, 2019
باپ اور بیٹی
*💕باپ اور بیٹی کی محبت💕*
*سائنسی ریسرچ سے یہ بات ثابت ھوئی ھے کہ*
" لڑکیاں اپنے باپ سے محبت کو سننا اور محسوس کرنا چاھتی ھیں ، لڑکیاں باپ کی محبت کی توثیق چاھتی ھیں ، اس توثیق کی کمی کو ماں پورا نہیں کر سکتی ."
" ماں بچی کو تحفظ دیتی ھے ، باپ انکو خود اعتمادی دیتا ھے .
اگر اس تعلق کو دیکھنا ھو تو آئیے محسن انسانیت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی بیٹی سے مثالی محبت پر نظر ڈالتے ھیں ۔
مفہوم حدیث :
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی کو اتنی عزت دیتے کہ جب فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنھا چل کر آتیں تو اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر کھڑے ھو جاتے اور مرحبا کہہ کر استقبال فرماتے تھے.
*( سیر اعلام النبلاء ۱۲۷۲)*
ایک مرتبہ سیدہ فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنھا نے روٹی بنائی ، جب روٹی کھانے لگیں تو دل میں خیال آیا کہ پتہ نہیں میرے والد گرامی نے بھی کچھ کھایا ھے یا نہیں...؟؟؟
سیدہ فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنھا نے روٹی کے دو ٹکڑے کئے ، آدھا خود کھایا اور آدھا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ھوئیں .
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے استقبال فرمایا اور پوچھا کہ کیسے آنا ھوا...؟؟؟
عرض کیا کہ ابا حضور ! میں روٹی کھانے لگی تو خیال آیا کہ پتہ نہیں آپ نے کچھ تناول فرمایا ھے یا نہیں...؟؟؟
، آپ کے لئے آدھی روٹی لیکر حاضر ھوئی ھوں...
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے روٹی کا نوالہ منہ میں ڈالا اور فرمایا :
" آج تیسرا دن ھے تیرے والد کے منہ میں روٹی کا کوئی ٹکڑا نہیں گیا."
*( طبقات ابن سعد ۴۰۰۱ ، سبل الہدی والرشاد ۹۴۷ )*
ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم بہت بھوک محسوس فرما رھے تھے ...
آپ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے
انہوں نے بکری ذبح کر کے گوشت پکایا اور حاضر خدمت کیا .
حضور اقدس صلی اللہ علیہ نے بکری کی ران سے گوشت کاٹا اور حضرت ابو ایوب انصاری سے فرمایا :
" مجھے نہیں معلوم کہ میری بیٹی نے کچھ کھایا ھے یا نہیں ، یہ گوشت میری طرف سے میری بیٹی کو پہنچا دیں"
( سبل الہدی والرشاد ۱۰۳۷ )
اسلام نے بیٹی کو معاشرے میں جو حقوق اور مقام دیا ھے وہ صرف اسلام ھی کا خاصہ ھے.
بیٹی کو بوجھ سمجھنا...
اسکے حقوق پر ڈاکے ڈالنا...
اسکو وراثت سے محروم کرنا...
اور اسکے اعتماد کو ٹھیس پہنچانا ھر گز اسلامی معاشرے کی عکاسی نہیں کرتا.
افسوس کہ ھم نے اپنے مثالی معاشرے کو بھلا دیا...
اور مغرب زدہ پھیکے اور بے رونق معاشرے کے گرویدہ ھوگئے ...
جو مادی ترقی کے باوجود حقیقی محبت اور حسن معاشرت کی ناگزیر نعمت سے محروم ھے ...
باپ اور بیٹی کی محبت وہ "انمول محبت"ہوتی ہے.
جو مرتے دم تک بیٹی اپنے سینے میں محسوس کرتی ہے.
اور یہی وجہ ہے کہ وہ اس محبت کو باپ کے انتقال کے بعد,,,
کبھی اپنے بھائی...
کبھی اپنے شوہر...
اور کبھی اپنے بیٹے میں تلاش کرتی ہے.
اللہ رب العزت سب کے والدین کی حفاظت فرمائے اور جن کے اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں ان کی مغفرت فرمائے.
اور بیٹیوں کے اس احساس کی آبیاری فرماۓ....
*آمین*
*سائنسی ریسرچ سے یہ بات ثابت ھوئی ھے کہ*
" لڑکیاں اپنے باپ سے محبت کو سننا اور محسوس کرنا چاھتی ھیں ، لڑکیاں باپ کی محبت کی توثیق چاھتی ھیں ، اس توثیق کی کمی کو ماں پورا نہیں کر سکتی ."
" ماں بچی کو تحفظ دیتی ھے ، باپ انکو خود اعتمادی دیتا ھے .
اگر اس تعلق کو دیکھنا ھو تو آئیے محسن انسانیت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی بیٹی سے مثالی محبت پر نظر ڈالتے ھیں ۔
مفہوم حدیث :
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی کو اتنی عزت دیتے کہ جب فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنھا چل کر آتیں تو اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر کھڑے ھو جاتے اور مرحبا کہہ کر استقبال فرماتے تھے.
*( سیر اعلام النبلاء ۱۲۷۲)*
ایک مرتبہ سیدہ فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنھا نے روٹی بنائی ، جب روٹی کھانے لگیں تو دل میں خیال آیا کہ پتہ نہیں میرے والد گرامی نے بھی کچھ کھایا ھے یا نہیں...؟؟؟
سیدہ فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنھا نے روٹی کے دو ٹکڑے کئے ، آدھا خود کھایا اور آدھا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ھوئیں .
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے استقبال فرمایا اور پوچھا کہ کیسے آنا ھوا...؟؟؟
عرض کیا کہ ابا حضور ! میں روٹی کھانے لگی تو خیال آیا کہ پتہ نہیں آپ نے کچھ تناول فرمایا ھے یا نہیں...؟؟؟
، آپ کے لئے آدھی روٹی لیکر حاضر ھوئی ھوں...
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے روٹی کا نوالہ منہ میں ڈالا اور فرمایا :
" آج تیسرا دن ھے تیرے والد کے منہ میں روٹی کا کوئی ٹکڑا نہیں گیا."
*( طبقات ابن سعد ۴۰۰۱ ، سبل الہدی والرشاد ۹۴۷ )*
ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم بہت بھوک محسوس فرما رھے تھے ...
آپ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے
انہوں نے بکری ذبح کر کے گوشت پکایا اور حاضر خدمت کیا .
حضور اقدس صلی اللہ علیہ نے بکری کی ران سے گوشت کاٹا اور حضرت ابو ایوب انصاری سے فرمایا :
" مجھے نہیں معلوم کہ میری بیٹی نے کچھ کھایا ھے یا نہیں ، یہ گوشت میری طرف سے میری بیٹی کو پہنچا دیں"
( سبل الہدی والرشاد ۱۰۳۷ )
اسلام نے بیٹی کو معاشرے میں جو حقوق اور مقام دیا ھے وہ صرف اسلام ھی کا خاصہ ھے.
بیٹی کو بوجھ سمجھنا...
اسکے حقوق پر ڈاکے ڈالنا...
اسکو وراثت سے محروم کرنا...
اور اسکے اعتماد کو ٹھیس پہنچانا ھر گز اسلامی معاشرے کی عکاسی نہیں کرتا.
افسوس کہ ھم نے اپنے مثالی معاشرے کو بھلا دیا...
اور مغرب زدہ پھیکے اور بے رونق معاشرے کے گرویدہ ھوگئے ...
جو مادی ترقی کے باوجود حقیقی محبت اور حسن معاشرت کی ناگزیر نعمت سے محروم ھے ...
باپ اور بیٹی کی محبت وہ "انمول محبت"ہوتی ہے.
جو مرتے دم تک بیٹی اپنے سینے میں محسوس کرتی ہے.
اور یہی وجہ ہے کہ وہ اس محبت کو باپ کے انتقال کے بعد,,,
کبھی اپنے بھائی...
کبھی اپنے شوہر...
اور کبھی اپنے بیٹے میں تلاش کرتی ہے.
اللہ رب العزت سب کے والدین کی حفاظت فرمائے اور جن کے اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں ان کی مغفرت فرمائے.
اور بیٹیوں کے اس احساس کی آبیاری فرماۓ....
*آمین*
فیض احمد فیض
*فیض احمد فیض ۔۔شخصیت اور فن*
اشفاق حسین
*پیش لفظ*
پاکستان کے قیام کے بعد اردو کے جس شاعر کو پاکستان اور بیرون پاکستان سب سے زیادہ شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی وہ فیض احمد فیض ہیں۔ شہرت و مقبولیت کی اسی دولت کے سبب ان کے چاہنے والوں کے ساتھ ساتھ ان سے اختلاف رکھنے والوں کا بھی ہمیشہ سے ایک حلقہ موجود رہا ہے یعنی نہ ہو مرنا تو جینے کا مزہ کیا ؟
انہوں نے جب شاعری کی ابتداء کی تو بیسویں صدی کے سب سے زیادہ قد آور شاعر علامہ اقبال اردو کے شعری افق پر آفتاب بن کر جگمگا رہے تھے۔ علامہ اقبال کی فکری شاعری سے الگ ایک طرف جوش ملیح آبادی کی انقلابی شاعری اور دوسری طرف اختر شیرانی کی تخلیق کردہ رومانی فضا بھی اردو شاعری پر سایا کیے ہوئے تھی۔ انجمن پنجاب کے ہاتھوں جدید نظم نگاری کا پودا لگے ہوئے تقریباً آدھی صدی گزر چکی تھی۔ اسی کے ساتھ ساتھ پورے برصغیر میں قومی آزادی کی جد و جہد اپنے عروج پر تھی اور سیاسی بیداری کی لہروں کا ریلہ سروں سے گزر رہا تھا۔ ایسے میں فیض صاحب نے اپنی شاعری کی ابتداء رومانی فضا میں کی اور پھر ترقی پسند تحریک کے زیر اثر دلے بفروختم جانے خریدم کہہ کر اپنی انقلابی سوچ کا باقاعدہ اعلان کیا لیکن نہ انہوں نے کبھی دل کے بیچنے کو اپنی آخری منزل قرار دیا اور نا ہی جان کی خریداری کو حرف آخر سمجھا۔ یوں ہوا کہ رومان اور انقلاب کی منڈیروں پر ان کی شاعری کا چراغ کبھی مدھم تو کبھی تیز روشنی کے ساتھ جلتا رہا۔ لوگوں نے اس چراغ کی لو سے دلوں کو گرمانے والے محبت کے نغمے بھی سنے اور انقلاب کی رجز خوانی بھی سنی۔
قیام پاکستان کے بعد ان کی شاعری نے اس نئے ملک کے عوام، ان کے مسائل اور ان کے دکھ درد کو اپنی شاعری کا موضوع کچھ اس طرح بنایا کہ ان کی شاعری کا سیاسی رنگ اور نکھرتا گیا۔ صبح آزادی کے بعد انہوں نے صرف یہی نہیں کہا تھا کہ وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں، بلکہ اپنے لوگوں کو یہ تلقین بھی کی تھی کہ ابھی گرانی شب میں کمی نہیں آئی /نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی / چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی۔ وہ ساری زندگی اسی منزل کی تلاش میں سرگرداں رہے اور تہمت عشق شوریدہ کے باوجود انہوں نے لیلائے وطن سے عشق کے جذبوں میں کمی نہیں آنے دی۔ ایک اعتبار سے محسوسات کی سطح پر ان کی شاعری نے پاکستانی سیاست کے نشیب و فراز کی ایک مکمل تاریخ بھی رقم کی ہے۔
فیض صاحب کی شخصیت آہستہ آہستہ پاکستانی ادب اور تہذیب و ثقافت کا امتیازی نشان بنتی چلی گئی۔ انہوں نے ایک بھرپور زندگی گزاری، اسی لیے ایک شاعر کی حیثیت سے، ایک نثر نگار کی حیثیت سے، ایک صحافی کی حیثیت سے، ایک تجزیہ نگار کی حیثیت سے، ایک ڈاکو منٹری اور فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے، ایک استاد کی حیثیت سے، ایک دانشور کی حیثیت سے، ایک ثقافتی کارکن اور مفکر کی حیثیت سے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک انسان کی حیثیت سے انہوں نے اپنے عہد پر بڑے گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ ایسی ہمہ جہت شخصیت کی سوانح لکھنا یقیناً بہت مشکل کام ہے۔ اسی لیے جب اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ان کے پاکستانی ادب کے معمار کے منصوبے کے لیے فیض صاحب کی شخصیت اور شاعری پر لکھنے کے لیے کہا گیا تو موضوع کی ہمہ گیریت کے سبب ابتدا میں مجھے کچھ تامل ہوا لیکن پھر میں نے دو باتوں کے پیش نظر اس کام کو اپنے ذمے لے لیا۔
پہلی بات تو یہ تھی کہ 1973ء میں جب میں جامعہ کراچی میں طالب علم تھا تو میں نے فیض صاحب پر ایک تحقیقی مقالہ لکھا تھا۔ اس وقت تک ان کی شاعری کے صرف پانچ مجموعے شائع ہوئے تھے مگر اس حوالے سے بحیثیت ایک طالب علم کے مجھے ایک خاص موضوع پر تفصیل سے کام کرنے کا موقعہ مل گیا تھا اور بالکل اسی طرح اکادمی کے موجودہ منصوبے پر کام کرتے ہوئے بھی فیض صاحب کی شاعری اور شخصیت کو سمجھنے کا ایک اور موقعہ مل رہا تھا۔ دوسری بات یہ کہ اچھا یا برا، اب تک فیض صاحب کے بارے میں بہت کچھ ضبط تحریر میں آ چکا ہے۔ اس لیے میرا کام زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ ان تمام مواد کو اختصار کے ساتھ ایک جگہ جمع کر دوں اور ساتھ ساتھ اپنے خیالات کا بھی اظہار کرتا جاؤں۔ سو اس منصوبے پر میں نے اسی انداز سے کام کیا ہے۔ اگر فیض فہمی کے سلسلے میں اس کتاب سے کسی طالب علم کو کچھ فائدہ پہنچ سکا تو میں سمجھوں گا کہ مجھے اپنے مقصد میں کامیابی ہوئی۔
اس کتاب کی ترتیب کے سلسلے میں مجھے اکادمی ادبیات کے چیئرمین افتخار عارف، محترمہ سعیدہ درانی، محترمہ شبانہ محمود اور میرے ٹورنٹو کے دوستوں احمد سلمان فاروقی اور بیدار بخت کا تعاون حاصل رہا جس کے لیے میں ان تمام شخصیتوں کا احسان مند ہوں۔
اشفاق حسین
کینیڈا2006ء
٭٭٭
اشفاق حسین
*پیش لفظ*
پاکستان کے قیام کے بعد اردو کے جس شاعر کو پاکستان اور بیرون پاکستان سب سے زیادہ شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی وہ فیض احمد فیض ہیں۔ شہرت و مقبولیت کی اسی دولت کے سبب ان کے چاہنے والوں کے ساتھ ساتھ ان سے اختلاف رکھنے والوں کا بھی ہمیشہ سے ایک حلقہ موجود رہا ہے یعنی نہ ہو مرنا تو جینے کا مزہ کیا ؟
انہوں نے جب شاعری کی ابتداء کی تو بیسویں صدی کے سب سے زیادہ قد آور شاعر علامہ اقبال اردو کے شعری افق پر آفتاب بن کر جگمگا رہے تھے۔ علامہ اقبال کی فکری شاعری سے الگ ایک طرف جوش ملیح آبادی کی انقلابی شاعری اور دوسری طرف اختر شیرانی کی تخلیق کردہ رومانی فضا بھی اردو شاعری پر سایا کیے ہوئے تھی۔ انجمن پنجاب کے ہاتھوں جدید نظم نگاری کا پودا لگے ہوئے تقریباً آدھی صدی گزر چکی تھی۔ اسی کے ساتھ ساتھ پورے برصغیر میں قومی آزادی کی جد و جہد اپنے عروج پر تھی اور سیاسی بیداری کی لہروں کا ریلہ سروں سے گزر رہا تھا۔ ایسے میں فیض صاحب نے اپنی شاعری کی ابتداء رومانی فضا میں کی اور پھر ترقی پسند تحریک کے زیر اثر دلے بفروختم جانے خریدم کہہ کر اپنی انقلابی سوچ کا باقاعدہ اعلان کیا لیکن نہ انہوں نے کبھی دل کے بیچنے کو اپنی آخری منزل قرار دیا اور نا ہی جان کی خریداری کو حرف آخر سمجھا۔ یوں ہوا کہ رومان اور انقلاب کی منڈیروں پر ان کی شاعری کا چراغ کبھی مدھم تو کبھی تیز روشنی کے ساتھ جلتا رہا۔ لوگوں نے اس چراغ کی لو سے دلوں کو گرمانے والے محبت کے نغمے بھی سنے اور انقلاب کی رجز خوانی بھی سنی۔
قیام پاکستان کے بعد ان کی شاعری نے اس نئے ملک کے عوام، ان کے مسائل اور ان کے دکھ درد کو اپنی شاعری کا موضوع کچھ اس طرح بنایا کہ ان کی شاعری کا سیاسی رنگ اور نکھرتا گیا۔ صبح آزادی کے بعد انہوں نے صرف یہی نہیں کہا تھا کہ وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں، بلکہ اپنے لوگوں کو یہ تلقین بھی کی تھی کہ ابھی گرانی شب میں کمی نہیں آئی /نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی / چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی۔ وہ ساری زندگی اسی منزل کی تلاش میں سرگرداں رہے اور تہمت عشق شوریدہ کے باوجود انہوں نے لیلائے وطن سے عشق کے جذبوں میں کمی نہیں آنے دی۔ ایک اعتبار سے محسوسات کی سطح پر ان کی شاعری نے پاکستانی سیاست کے نشیب و فراز کی ایک مکمل تاریخ بھی رقم کی ہے۔
فیض صاحب کی شخصیت آہستہ آہستہ پاکستانی ادب اور تہذیب و ثقافت کا امتیازی نشان بنتی چلی گئی۔ انہوں نے ایک بھرپور زندگی گزاری، اسی لیے ایک شاعر کی حیثیت سے، ایک نثر نگار کی حیثیت سے، ایک صحافی کی حیثیت سے، ایک تجزیہ نگار کی حیثیت سے، ایک ڈاکو منٹری اور فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے، ایک استاد کی حیثیت سے، ایک دانشور کی حیثیت سے، ایک ثقافتی کارکن اور مفکر کی حیثیت سے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک انسان کی حیثیت سے انہوں نے اپنے عہد پر بڑے گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ ایسی ہمہ جہت شخصیت کی سوانح لکھنا یقیناً بہت مشکل کام ہے۔ اسی لیے جب اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ان کے پاکستانی ادب کے معمار کے منصوبے کے لیے فیض صاحب کی شخصیت اور شاعری پر لکھنے کے لیے کہا گیا تو موضوع کی ہمہ گیریت کے سبب ابتدا میں مجھے کچھ تامل ہوا لیکن پھر میں نے دو باتوں کے پیش نظر اس کام کو اپنے ذمے لے لیا۔
پہلی بات تو یہ تھی کہ 1973ء میں جب میں جامعہ کراچی میں طالب علم تھا تو میں نے فیض صاحب پر ایک تحقیقی مقالہ لکھا تھا۔ اس وقت تک ان کی شاعری کے صرف پانچ مجموعے شائع ہوئے تھے مگر اس حوالے سے بحیثیت ایک طالب علم کے مجھے ایک خاص موضوع پر تفصیل سے کام کرنے کا موقعہ مل گیا تھا اور بالکل اسی طرح اکادمی کے موجودہ منصوبے پر کام کرتے ہوئے بھی فیض صاحب کی شاعری اور شخصیت کو سمجھنے کا ایک اور موقعہ مل رہا تھا۔ دوسری بات یہ کہ اچھا یا برا، اب تک فیض صاحب کے بارے میں بہت کچھ ضبط تحریر میں آ چکا ہے۔ اس لیے میرا کام زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ ان تمام مواد کو اختصار کے ساتھ ایک جگہ جمع کر دوں اور ساتھ ساتھ اپنے خیالات کا بھی اظہار کرتا جاؤں۔ سو اس منصوبے پر میں نے اسی انداز سے کام کیا ہے۔ اگر فیض فہمی کے سلسلے میں اس کتاب سے کسی طالب علم کو کچھ فائدہ پہنچ سکا تو میں سمجھوں گا کہ مجھے اپنے مقصد میں کامیابی ہوئی۔
اس کتاب کی ترتیب کے سلسلے میں مجھے اکادمی ادبیات کے چیئرمین افتخار عارف، محترمہ سعیدہ درانی، محترمہ شبانہ محمود اور میرے ٹورنٹو کے دوستوں احمد سلمان فاروقی اور بیدار بخت کا تعاون حاصل رہا جس کے لیے میں ان تمام شخصیتوں کا احسان مند ہوں۔
اشفاق حسین
کینیڈا2006ء
٭٭٭
علامہ محمد اقبال
علامہ اقبال فرماتے ھیں کہ میں روزانہ صبح تلاوت قرآن کیا کرتا تھا.. میرے والد صاحب شیخ نور محمد اکثر میرے پاس سے گزرتے تھے.. ایک دن رک کر مجھے فرمانے لگے:
"اقبال کسی دن تمہیں بتائوں گا کہ قرآن کیسے پڑھتے ھیں.."
اتنا کہہ کر وہ آگے بڑھ گئے.. اور میں حیران بیٹھا سوچنے لگا کہ میں بھی تو قرآن پڑھ رھا ھوں..
کچھ دن بعد میں اسی طرح تلاوت کررھا تھا کہ میرے والد صاحب میرے پاس رکے.. جب میں خاموش ھوا تو مجھے کہنے لگے:
"جب قرآن پڑھو تو یوں سمجھو جیسے یہ اللہ نے صرف تمہارے لیے بھیجا ھے.. اور اللہ پاک براہ راست تمہارے ساتھ خطاب کررھا ھے.. اور تمہیں اپنی زبان سے احکامات دے رھا ھے..
جب اس کیفیت کے ساتھ قرآن پڑھو گے کہ قرآن کا مخاطب اللہ ہے تو پھر تمہیں اس کی لذت ملے گی.."
اقبال کہتے ھیں کہ اس دن کے بعد قرآن کی جو لذت اور جو سرور مجھے ملا وہ اس سے پہلے نہیں ملا تھا.
"اقبال کسی دن تمہیں بتائوں گا کہ قرآن کیسے پڑھتے ھیں.."
اتنا کہہ کر وہ آگے بڑھ گئے.. اور میں حیران بیٹھا سوچنے لگا کہ میں بھی تو قرآن پڑھ رھا ھوں..
کچھ دن بعد میں اسی طرح تلاوت کررھا تھا کہ میرے والد صاحب میرے پاس رکے.. جب میں خاموش ھوا تو مجھے کہنے لگے:
"جب قرآن پڑھو تو یوں سمجھو جیسے یہ اللہ نے صرف تمہارے لیے بھیجا ھے.. اور اللہ پاک براہ راست تمہارے ساتھ خطاب کررھا ھے.. اور تمہیں اپنی زبان سے احکامات دے رھا ھے..
جب اس کیفیت کے ساتھ قرآن پڑھو گے کہ قرآن کا مخاطب اللہ ہے تو پھر تمہیں اس کی لذت ملے گی.."
اقبال کہتے ھیں کہ اس دن کے بعد قرآن کی جو لذت اور جو سرور مجھے ملا وہ اس سے پہلے نہیں ملا تھا.
Subscribe to:
Comments (Atom)