*فیض احمد فیض ۔۔شخصیت اور فن*
اشفاق حسین
*پیش لفظ*
پاکستان کے قیام کے بعد اردو کے جس شاعر کو پاکستان اور بیرون پاکستان سب سے زیادہ شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی وہ فیض احمد فیض ہیں۔ شہرت و مقبولیت کی اسی دولت کے سبب ان کے چاہنے والوں کے ساتھ ساتھ ان سے اختلاف رکھنے والوں کا بھی ہمیشہ سے ایک حلقہ موجود رہا ہے یعنی نہ ہو مرنا تو جینے کا مزہ کیا ؟
انہوں نے جب شاعری کی ابتداء کی تو بیسویں صدی کے سب سے زیادہ قد آور شاعر علامہ اقبال اردو کے شعری افق پر آفتاب بن کر جگمگا رہے تھے۔ علامہ اقبال کی فکری شاعری سے الگ ایک طرف جوش ملیح آبادی کی انقلابی شاعری اور دوسری طرف اختر شیرانی کی تخلیق کردہ رومانی فضا بھی اردو شاعری پر سایا کیے ہوئے تھی۔ انجمن پنجاب کے ہاتھوں جدید نظم نگاری کا پودا لگے ہوئے تقریباً آدھی صدی گزر چکی تھی۔ اسی کے ساتھ ساتھ پورے برصغیر میں قومی آزادی کی جد و جہد اپنے عروج پر تھی اور سیاسی بیداری کی لہروں کا ریلہ سروں سے گزر رہا تھا۔ ایسے میں فیض صاحب نے اپنی شاعری کی ابتداء رومانی فضا میں کی اور پھر ترقی پسند تحریک کے زیر اثر دلے بفروختم جانے خریدم کہہ کر اپنی انقلابی سوچ کا باقاعدہ اعلان کیا لیکن نہ انہوں نے کبھی دل کے بیچنے کو اپنی آخری منزل قرار دیا اور نا ہی جان کی خریداری کو حرف آخر سمجھا۔ یوں ہوا کہ رومان اور انقلاب کی منڈیروں پر ان کی شاعری کا چراغ کبھی مدھم تو کبھی تیز روشنی کے ساتھ جلتا رہا۔ لوگوں نے اس چراغ کی لو سے دلوں کو گرمانے والے محبت کے نغمے بھی سنے اور انقلاب کی رجز خوانی بھی سنی۔
قیام پاکستان کے بعد ان کی شاعری نے اس نئے ملک کے عوام، ان کے مسائل اور ان کے دکھ درد کو اپنی شاعری کا موضوع کچھ اس طرح بنایا کہ ان کی شاعری کا سیاسی رنگ اور نکھرتا گیا۔ صبح آزادی کے بعد انہوں نے صرف یہی نہیں کہا تھا کہ وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں، بلکہ اپنے لوگوں کو یہ تلقین بھی کی تھی کہ ابھی گرانی شب میں کمی نہیں آئی /نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی / چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی۔ وہ ساری زندگی اسی منزل کی تلاش میں سرگرداں رہے اور تہمت عشق شوریدہ کے باوجود انہوں نے لیلائے وطن سے عشق کے جذبوں میں کمی نہیں آنے دی۔ ایک اعتبار سے محسوسات کی سطح پر ان کی شاعری نے پاکستانی سیاست کے نشیب و فراز کی ایک مکمل تاریخ بھی رقم کی ہے۔
فیض صاحب کی شخصیت آہستہ آہستہ پاکستانی ادب اور تہذیب و ثقافت کا امتیازی نشان بنتی چلی گئی۔ انہوں نے ایک بھرپور زندگی گزاری، اسی لیے ایک شاعر کی حیثیت سے، ایک نثر نگار کی حیثیت سے، ایک صحافی کی حیثیت سے، ایک تجزیہ نگار کی حیثیت سے، ایک ڈاکو منٹری اور فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے، ایک استاد کی حیثیت سے، ایک دانشور کی حیثیت سے، ایک ثقافتی کارکن اور مفکر کی حیثیت سے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک انسان کی حیثیت سے انہوں نے اپنے عہد پر بڑے گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ ایسی ہمہ جہت شخصیت کی سوانح لکھنا یقیناً بہت مشکل کام ہے۔ اسی لیے جب اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ان کے پاکستانی ادب کے معمار کے منصوبے کے لیے فیض صاحب کی شخصیت اور شاعری پر لکھنے کے لیے کہا گیا تو موضوع کی ہمہ گیریت کے سبب ابتدا میں مجھے کچھ تامل ہوا لیکن پھر میں نے دو باتوں کے پیش نظر اس کام کو اپنے ذمے لے لیا۔
پہلی بات تو یہ تھی کہ 1973ء میں جب میں جامعہ کراچی میں طالب علم تھا تو میں نے فیض صاحب پر ایک تحقیقی مقالہ لکھا تھا۔ اس وقت تک ان کی شاعری کے صرف پانچ مجموعے شائع ہوئے تھے مگر اس حوالے سے بحیثیت ایک طالب علم کے مجھے ایک خاص موضوع پر تفصیل سے کام کرنے کا موقعہ مل گیا تھا اور بالکل اسی طرح اکادمی کے موجودہ منصوبے پر کام کرتے ہوئے بھی فیض صاحب کی شاعری اور شخصیت کو سمجھنے کا ایک اور موقعہ مل رہا تھا۔ دوسری بات یہ کہ اچھا یا برا، اب تک فیض صاحب کے بارے میں بہت کچھ ضبط تحریر میں آ چکا ہے۔ اس لیے میرا کام زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ ان تمام مواد کو اختصار کے ساتھ ایک جگہ جمع کر دوں اور ساتھ ساتھ اپنے خیالات کا بھی اظہار کرتا جاؤں۔ سو اس منصوبے پر میں نے اسی انداز سے کام کیا ہے۔ اگر فیض فہمی کے سلسلے میں اس کتاب سے کسی طالب علم کو کچھ فائدہ پہنچ سکا تو میں سمجھوں گا کہ مجھے اپنے مقصد میں کامیابی ہوئی۔
اس کتاب کی ترتیب کے سلسلے میں مجھے اکادمی ادبیات کے چیئرمین افتخار عارف، محترمہ سعیدہ درانی، محترمہ شبانہ محمود اور میرے ٹورنٹو کے دوستوں احمد سلمان فاروقی اور بیدار بخت کا تعاون حاصل رہا جس کے لیے میں ان تمام شخصیتوں کا احسان مند ہوں۔
اشفاق حسین
کینیڈا2006ء
٭٭٭
No comments:
Post a Comment